سپیکرز
مدثر ثانی کا پیش کردہ کلام
وہ مجھ کو ایک سمجھتا تھا اور ہزار تھا میں
وہ مجھ کو ایک سمجھتا تھا اور ہزار تھا میں شمار ہوتا بھی کیسے کہ بے شمار تھا میں مجھے سمیٹ لیا ہے تری تمنا نے طلب کی راہ میں بکھرا ہوا غبار تھا میں اجل کے ہاتھوں سے ٹوٹا تو مجھ کو یاد آیا ترا بنایا ہوا ایک شاہکار تھا میں کہاں کہاں سے نہ آتی تھی خلق دیکھنے کو گئے دنوں میں محبت کی یادگار تھا میں کچھ اس لیے بھی زیادہ ہے اہمیت میری کہ اس کا پہلا نہیں آخری شکار تھا میں وہ اک گناہ جو مجھ سے نہ ہو سکا سرزد اسی گناہ پہ تا عمر شرم سار تھا میں اسی لیے تو دکھائی نہیں دیا تم کو غبار دیکھنے والو پسِ غبار تھا میں نہ جانے بعد مرے ان کا کیا بنا آزر وہ ننھے پھول کہ جن کے لیے بہار تھا میں
جو رہن رکھے تھے واپس وہ خواب دے مجھ کو
جو رہن رکھے تھے واپس وہ خواب دے مجھ کو کہاں گئیں مری آنکھیں جواب دے مجھ کو اب اُس کا رنگ مرے خون میں بھی شامل ہے تجھے یہ کس نے کہا تھا گلاب دے مجھ کو مرے بغیر گزارے ہیں اتنے دن تو نے کہاں گزارے ہیں کچھ تو حساب دے مجھ کو مجھے بھی پیاس بجھانی ہے اپنے صحرا کی کسی پیالے میں بھر کر سراب دے مجھ کو میں اپنی موج سے طوفان اُٹھانا چاہتا ہوں سمندروں کی طرح پیچ و تاب دے مجھ کو تمام عمر محبت میں کاٹ دی میں نے یہ جرم ہے تو سزا دے، عذاب دے مجھ کو میں جس کو بھرتے ہوئے زیست کر سکوں آزر کوئی تو زخم بہت دیریاب دے مجھ کو