دلاور علی آزر

اس سے کچھ خاص تعلق بھی نہیں ہے اپنا (دلاور علی آزر)

28 December 2025

14سپیکرز
188لسنرز

سپیکرز

مدثر ثانی کا پیش کردہ کلام

وہ مجھ کو ایک سمجھتا تھا اور ہزار تھا میں

وہ مجھ کو ایک سمجھتا تھا اور ہزار تھا میں شمار ہوتا بھی کیسے کہ بے شمار تھا میں مجھے سمیٹ لیا ہے تری تمنا نے طلب کی راہ میں بکھرا ہوا غبار تھا میں اجل کے ہاتھوں سے ٹوٹا تو مجھ کو یاد آیا ترا بنایا ہوا ایک شاہکار تھا میں کہاں کہاں سے نہ آتی تھی خلق دیکھنے کو گئے دنوں میں محبت کی یادگار تھا میں کچھ اس لیے بھی زیادہ ہے اہمیت میری کہ اس کا پہلا نہیں آخری شکار تھا میں وہ اک گناہ جو مجھ سے نہ ہو سکا سرزد اسی گناہ پہ تا عمر شرم سار تھا میں اسی لیے تو دکھائی نہیں دیا تم کو غبار دیکھنے والو پسِ غبار تھا میں نہ جانے بعد مرے ان کا کیا بنا آزر وہ ننھے پھول کہ جن کے لیے بہار تھا میں

— دلاور علی آزر

جو رہن رکھے تھے واپس وہ خواب دے مجھ کو

جو رہن رکھے تھے واپس وہ خواب دے مجھ کو کہاں گئیں مری آنکھیں جواب دے مجھ کو اب اُس کا رنگ مرے خون میں بھی شامل ہے تجھے یہ کس نے کہا تھا گلاب دے مجھ کو مرے بغیر گزارے ہیں اتنے دن تو نے کہاں گزارے ہیں کچھ تو حساب دے مجھ کو مجھے بھی پیاس بجھانی ہے اپنے صحرا کی کسی پیالے میں بھر کر سراب دے مجھ کو میں اپنی موج سے طوفان اُٹھانا چاہتا ہوں سمندروں کی طرح پیچ و تاب دے مجھ کو تمام عمر محبت میں کاٹ دی میں نے یہ جرم ہے تو سزا دے، عذاب دے مجھ کو میں جس کو بھرتے ہوئے زیست کر سکوں آزر کوئی تو زخم بہت دیریاب دے مجھ کو

— دلاور علی آزر